کیا زنا سے سچے دل سے توبہ کرنے والے مرد کے لیے پاک دامن لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے؟
اس برائی میں مبتلا ہونا جوازِ نکاح سے مانع نہیں ہے، یعنی لڑکا اور لڑکی اگر دونوں مسلمان ہیں اور دونوں کے درمیان حرمت کا کوئی رشتہ بھی نہیں اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے دونوں کا نکاح ہوجائے تو وہ صحیح اور منعقد ہوجاتا ہے
آیت کریمہ میں زنا کی قباحت کا بیان ہے،کسی حکم شرعی کا بیان نہیں ہے، یعنی: زنا اس قدر قبیح اور برا کام ہے کہ جو شخص اس گندے فعل کا ارتکاب کرتا ہے، اس کا نیک لوگوں سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا، اس کا جوڑ اپنے جیسے برے لوگوں یعنی: بدکار مرد یا بدکار عورت سے ہوتا ہے
اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ زنا کار مرد، کسی نیک خاتون سے نکاح کے لائق نہیں ہوتا، وہ صرف اپنی جیسی بدکار عورت یا اس سے بھی زیادہ بری: مشرکہ عورت سے نکاح کے لائق ہوتا ہے۔ اسی طرح بدکار عورت کسی نیک مرد سے نکاح کے لائق نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ اپنے جیسے بدکار مرد یا اس سے بھی زیادہ برے: مشرک مرد سے نکاح کے لائق ہوتی.
جب کے سوال میں مذکور شخص اپنے گناہ سے توبہ بھی کر لیے لہاذا اس سے نکاح کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں
استفتاء: جبر و اکراہ کی حالت میں طلاق
Sep 18, 2026
അമുസ്ലിംകൾക്കും യാത്രക്കാർക്കും വേണ്ടി റമളാനിൽ ഹോട്ടൽ...
Jul 03, 2026
വ്യാജ ലേബൽ ഒട്ടിച്ച് കച്ചവടം ചെയ്യാമോ?
Jul 03, 2026
ജിദ്ദ വഴി ഉംറയ്ക്ക് പോകുമ്പോൾ ഇഹ്റാം എവിടെ നിന്ന്?
Jul 03, 2026