Darul Ifta Kauzariyya

استفتاء: جبر و اکراہ کی حالت میں طلاق

Qu-Id: IFTA-20260816-0001
Madhab: Shafii
Date: 18-09-2026
Question:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین (بر مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ) اس مسئلہ ہذا میں کہ

محمد مسعود انصاری کا اپنی بیوی سے اختلاف اور لڑائی جھگڑا ہوا۔ صلح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن بیوی اور بیوی کے رشتہ دار صلح پر راضی نہیں ہوئے، بلکہ بیوی کے بھائی، بہن اور بہنوئی کی طرف سے مسلسل ٹارچر، مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔

اتفاقاً ایک رات گھر میں بیوی کے رشتہ دار پہلے سے چھپے ہوئے تھے۔ بیوی نے شوہر کو فون کر کے گھر بلایا، اور جب شوہر گھر میں داخل ہوئے تو اچانک ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ بیوی کے سامنے ہی اس کے رشتہ داروں نے شوہر کو بہت مارا پیٹا اور مسلسل تشدد کرتے رہے۔

پھر ان شر پسندوں نے کہا کہ: "تنویر (بیوی کا نام) کو طلاق دو، تب یہاں سے جانے دیں گے، ورنہ جان سے مار دیں گے۔ اگر پٹن چیرو میں نظر آئے تو جان سے مار دیں گے، اگر پولیس اسٹیشن (P.S.) گئے تو جان سے مار دیں گے، اگر قاضی صاحب کے پاس گئے تو جان سے مار دیں گے۔ اگر جان کی سلامتی چاہتے ہو تو طلاق دو اور یہاں سے چلے جاؤ۔"

محمد مسعود انصاری کا بیان ہے کہ ابتدا میں میں نے کچھ نہیں کہا، لیکن ان سب کا اصرار بڑھتا گیا اور وہ مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

اسی دوران میری بیوی کی بہن اور میری بیوی کے بہنوئی بھی مجھ پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے۔ خصوصاً میری بیوی کے بہنوئی بار بار مجھ سے یہ الفاظ کہلوانے کی کوشش کرتے رہے کہ: "بولو، میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں۔" لیکن میں نے اپنی بیوی کا نام لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے نہ اپنی بیوی کا نام لیا، نہ اسے مخاطب کیا، نہ اس کی طرف دیکھا اور نہ ہی "میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں" جیسے الفاظ ادا کیے۔

اس صورتِ حال میں، شدید جبر، اکراہ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے درمیان، بغیر طلاق کی نیت کے میرے منہ سے صرف ایک مرتبہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ نکلے۔

لیکن اس کے بعد میری سالی موبائل کا کیمرہ میرے منہ کے سامنے لے کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی: "ایک بار نہیں، تین بار بولنا پڑتا ہے۔" چنانچہ شدید جبر، اکراہ، تشدد اور اپنی جان بچانے کی خاطر، بغیر اپنی بیوی کا نام لیے، بغیر اسے مخاطب کیے، بغیر اس کی طرف دیکھے اور بغیر طلاق کی نیت کے صرف ان لوگوں کے مطالبے اور ان کے شر سے بچنے کے لیے میں نے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہہ دیے اور وہاں سے نکل گیا۔

محمد مسعود انصاری کا بیان ہے کہ طلاق دینے کا نہ تو اس کا ارادہ تھا، نہ اس نے دل میں طلاق کا فیصلہ کیا تھا، بلکہ یہ الفاظ صرف اپنی جان بچانے اور ان لوگوں کے ظلم، تشدد، جبر و اکراہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ادا کیے تھے۔

واضح رہے کہ مذکورہ بیوی سے چار بچے بھی ہیں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے:

کیا مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

اگر واقع ہوگی تو کتنی طلاق واقع ہوگی؟

کیا شدید جبر، اکراہ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکی کی حالت میں ادا کیے گئے ایسے الفاظ شرعاً معتبر ہوتے ہیں؟

جبکہ شوہر نے اپنی بیوی کا نام نہیں لیا، اسے مخاطب بھی نہیں کیا، اور "میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں" جیسے الفاظ کہنے سے بھی انکار کیا، بلکہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہے، نیز طلاق کی نیت بھی نہیں تھی، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟

اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟

جواب عنایت فرمائیں۔

والسلام


Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

سوال میں بیان کردہ واقعہ کے مطابق اگر حقیقت وہی ہے جو محمد مسعود انصاری نے بیان کی ہے، یعنی شدید مارپیٹ، جان سے قتل کی حقیقی دھمکیاں، زبردستی اور اکراہ کے تحت طلاق کے الفاظ کہلوائے گئے، تو مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق حکم درج ذیل ہے۔

اصل حکم

مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق اکراہِ مُلجِئ (ایسا شدید جبر جس میں جان، عضو یا سخت نقصان کا حقیقی اندیشہ ہو) کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه»

"اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی، بھول اور جس کام پر انہیں مجبور کیا جائے، اس کا حکم اٹھا لیا ہے۔"

اسی بنا پر شافعی فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جس شخص کو جان یا شدید ضرر کی دھمکی دے کر طلاق پر مجبور کیا جائے، اس کی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔

اس واقعہ پر حکم

اگر درج ذیل امور ثابت ہوں:

  • واقعی جان سے مارنے یا شدید جسمانی نقصان کی حقیقی دھمکی دی گئی۔

  • شوہر کو مارا پیٹا گیا اور اس پر زبردستی طلاق کے الفاظ کہلوائے گئے۔

  • شوہر نے اپنی مرضی اور اختیار سے طلاق دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔

  • الفاظ صرف اپنی جان بچانے کے لیے ادا کیے۔

تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہنے کا حکم

سوال میں ذکر ہے کہ شوہر نے:

  • بیوی کا نام نہیں لیا۔

  • اسے مخاطب نہیں کیا۔

  • اس کی طرف نہیں دیکھا۔

  • طلاق کی نیت بھی نہیں تھی۔

اس بارے میں دو پہلو ہیں:

  1. اگر "تمہیں" سے مراد اسی وقت موجود بیوی تھی تو عام حالات میں یہ الفاظ صریح طلاق کے الفاظ ہیں اور نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

  2. لیکن چونکہ یہ الفاظ شدید اکراہ و جبر کے تحت ادا ہوئے، اس لیے شافعی مذہب میں اکراہ کی وجہ سے ان کا اعتبار نہیں ہوگا۔

لہٰذا اس واقعہ میں اصل مؤثر سبب اکراہ ہے، نہ کہ الفاظ کی صراحت۔

تین مرتبہ الفاظ دہرانے کا حکم

یہ کہنا کہ "تین بار بولنا پڑتا ہے" شرعاً درست نہیں۔

اگر کسی شخص نے ایک مجلس میں ایک ہی جملہ تین مرتبہ کہا، تو شافعی فقہ میں اصل بحث اس بات پر ہے کہ آیا یہ اختیار سے کہا گیا یا نہیں۔

اس واقعہ میں چونکہ ہر مرتبہ جبر و اکراہ موجود تھا، اس لیے یہ تکرار بھی طلاق کو نافذ نہیں کرتی۔

رجوع یا تجدیدِ نکاح

اگر واقعی طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تو:

  • نکاح بدستور قائم ہے۔

  • رجوع کی ضرورت نہیں۔

  • تجدیدِ نکاح کی بھی ضرورت نہیں۔

  • میاں بیوی شرعاً بدستور زوجین ہیں۔

البتہ اگر کسی شرعی عدالت یا مستند قاضی کے سامنے اس واقعہ کی تحقیق ہو اور اکراہ ثابت نہ ہو، تو پھر معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔

اہم تنبیہ

یہ معاملہ صرف ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قضائی (Judicial) معاملہ بھی ہے، کیونکہ اس میں:

  • اکراہ (جبر) کا دعویٰ ہے۔

  • مارپیٹ اور جان سے قتل کی دھمکی کا دعویٰ ہے۔

  • متعدد افراد کے تشدد کا ذکر ہے۔

اس لیے بہتر یہ ہے کہ فریقین کی بات سن کر کسی معتبر شافعی دارالافتاء یا قاضی کے سامنے اس واقعہ کی مکمل تحقیق کی جائے، خصوصاً جب چار بچوں کا معاملہ بھی وابستہ ہے۔

خلاصۂ جواب (مختصر)

سوال

جواب (مسلکِ امام شافعیؒ)

کیا شدید جبر و اکراہ میں دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے؟نہیں، اگر اکراہِ مُلجِئ ثابت ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔
کتنی طلاق واقع ہوئی؟مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
تین مرتبہ الفاظ دہرانے کا کیا حکم ہے؟جبر کے تحت دہرائے گئے الفاظ بھی معتبر نہیں۔
رجوع یا تجدیدِ نکاح کی ضرورت؟نہیں، کیونکہ نکاح برقرار ہے
والله أعلم بالصواب
Written by: Mufti Sirajudheen Al Kauzari
Verified by: Haris Moulavi Kausari
Checked & Approved by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari
Published by: DARUL IFTA