Darul Ifta Kauzariyya

کسی سنی لڑکی کا اس قسم کے اثنا عشری مسلمان لڑکے سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

Qu-Id: Q0353
Madhab: Hanafi
Date: 01-01-1970
Question:
مفتی صاحب بعد از سلام سوال عرض یہ ہے کہ ایک معتدل مزاجاثنا عشری مسلمانلڑکا جو صحآبہ کرام کا احترام کرتا ہو، اور صحابہ کرام اور امہات المومنین خصوصاحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تبرا نہیں کرتا ہو بلکہ تبرا کرنے کو ناجائز اور بر اکہتا اور سمجھتا ہے،اور حضرت علی رضہ اللہ عنہ کو انبیا کرام سے افضل نہیں مانتا ،بلکہ اہل بیت کا معتقد ہے پانچ وقت نمازیں پڑھتا ہے،زکاۃ ادا کرتا ہے، شیعہ گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود معتدل مزاج رکھتے ہوئے کئی سال سنی طریقے کے مطابق بھی نمازیں پڑھتا رہا ہے وہ کہتا ہے کہ ہم اہل بیت کے بارہ اماموں کے معتقد ہیں لیکن یہ عقیدہ نہیں کہ نعوذباللہ امام حلال و حرام کا اختیار رکھتے ہیں ،یا نعوذبا اللہ حضرت جبرائیل سے وحی پہچانے میں غلطی ہوئی ہےبلکہ ہم صحابہ کرام میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تفضل کے قائل ہیں لیکن ہم شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما) کی شان میں گستاخیاں نہیں کرتے یہ ہمارا تاریخی اختلاف ہے جس میں طرفین کے پاس بھی الگ الگ دلائل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کا سنی گھرانے کی لڑکی سے مندرجہ ذیل شرائط پر کہ: 1-لڑکی تادم مرگ اپنے مسلک پر قائم رہے گی اور لڑکا اپنے عقاید و مذہبی معاملات میں لڑکی پر کسی قسم کی زورو زبردستی نہیں کرےگا ۔ 2-اولاد کے مسلک کے معاملے کو اولاد کےاپنے اختیار رپر چھوڑا جائے گا کہ وہ بڑے ہوکر سنی یا اثنا عشری مین سے اپنے علم اورتربیت کے مطابق جو راستہ اختیار کرنا چاہیں گے لڑکا یا اس کے گھر والےاپنے مسلک پر چلانے پر زبردستی نہیں گےاسی طرح لڑکی یا اس کے گھر والے اولاد کو اپنے مسلک کی طرف مائل کرنے پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کریں گے بلکہ مسلک کا انتخاب اولاد کا اپنا ذاتی ومذہبی حق ہوگا ۔ مندرجہ بالا شرائط پر کسی سنی لڑکی کا اس اثنا عشری مسلمان لڑکے سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ (واضح رہے لڑکی اور لڑکا دونوں اعلٰی تعلیم یافتہ اور پاکستان آرمی کے ادارے میں بر سرِ روزگار ہیں اور معاشی طور پر خود مختار بھی ہیں )

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

نکاح کے لیے لڑکی اور لڑکے کا ایک مذہب ہونا ضروری ہے یعنی دونوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے چونکہ اثنا عشری اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے جو ان کی کتابوں میں موجود ہیں اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہیں، اس لیے سنی لڑکے کا نکاح شیعہ لڑکی سے یا شیعہ لڑکی کا نکاح سنی لڑکے کے ساتھ جائز نہیں, نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں,  

سوال میں اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص اثنا عشریہ کے بعض عقیدوں سے برائت ظاہر کرتا ہے تاہم شیعوں کے یہاں تقیہ اور کتمان ایسی چیزیں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے اصل عقائد، خیالات،  رحجانات کو چھپالے جاتے ہیں، بلا ثبوت کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں کرنی چاہیے لیکن شیعوں کا عقیدہ صحابہٴ کرام، قرآن پاک، حضرت عائشہ صدیقہ کے بہتان کے سلسلہ میں معروف ہے جس کی بنا پر عام طور پر شیعوں کو کافر مرتد کہا جاتا ہے اور ان سے نکاح ناجائز بتلایا جاتا ہے, اگر کسی کے بارے میں یقین کے درجہ میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ نہ تو تمام صحابہ کے مرتد ہونے کا قائل ہے (چند کو چھوڑ کر)،  نہ قرآن پاک کے بعض حصے کے غائب ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے ، نہ ائمہ کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے(کہ جیسے انبیاء سے گناہ صادر ہونا نا ممکن ہے اسی طرح سے ائمہ کو نہیں مانتا ہے)،  نہ ہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر باندھے گئے بہتان کو صحیح سمجھتا ہے  (صرف بدزبانی نہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس بہتان میں ذرہ بھر بھی سچائی ہونا نہیں مانتا ہے) ،نہ ہی نبوت کے پیغام رسانی کے سلسلہ میں حضرت جبریل علیہ السلام سے غلطی ہوجانے کا عقیدہ رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ تو ایسی شخص پر کفر کا حکم لگانے میں اگرچہ احتیاط کی جائے گی اور اسے کافر نہیں کہیں گے؛

لیکن نکاح جیسا نازک رشتہ قائم کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرلینا اور مقامی علماء سے مشورہ لے کر اطمینان کرلینا ضروری ہوگا, کیونکہ نکاح کے لیے ایسی شخص کا انتخاب ہونا چاہئے جو دین واخلاق کے اعتبار سے صحیح قابل اطمینان اور پختہ ہو ورنہ اس کے غلط اثرات خود پر یا ہونے والی اولاد پر پڑنے کے امکانات رہتے ہیں, بالخصوص جبکہ سوال میں سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنے کے بارے پوچھا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ مزید احتیاط لازم ہے

والله أعلم بالصواب
Written by: yahya
Checked & Approved by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari
Published by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari